سیلاب کی تازہ رپورٹ جاری، تقریبا 44 لاکھ افراد محفوظ مقامات پر منتقل

سیلاب

رخ پاکستان: نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ملک میں حالیہ سیلاب کی صورتحال پر ایک تازہ رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق دریائے چناب، راوی اور ستلج کی صورتحال بتدریج بہتر ہو رہی ہے مگر دریائے سندھ کے کچھ مقامات پر اب بھی شدید خطرہ موجود ہے خاص طور پر گڈو اور پنجند کے مقام پر۔

رپورٹ کے مطابق پنجاب کے جنوبی علاقوں اور سندھ کے کئی اضلاع میں اب بھی پانی کا زور ٹوٹا نہیں اور لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ صرف پنجاب میں 27 لاکھ جبکہ سندھ میں 16 لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کی لندن روانگی، اصل وجہ سامنے آگئی

دریائے چناب کے اہم مقامات جیسے تریموں، مرالہ، خانکی اور قادرآباد میں صورتحال قابو میں ہے، تاہم پنجند کے مقام پر تین لاکھ آٹھ ہزار کیوسک کے طاقتور ریلے نے جنوبی پنجاب کے اضلاع، بشمول مظفر گڑھ، راجن پور، بہاولپور اور رحیم یار خان کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

دریائے راوی میں بھی عمومی صورتحال بہتر ہے مگر گنڈا سنگھ والا کے مقام پر اب بھی ایک لاکھ آٹھ ہزار کیوسک کا ریلا موجود ہے۔ ستلج کے سیلمانکی اور ہیڈ اسلام کے علاقوں میں پانی کی سطح قابو میں ہے قصور، اوکاڑہ اور بہاولنگر میں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔

ادھر دریائے سندھ کے گڈو، سکھر اور کوٹری بیراجز پر پانی کی سطح اب بھی خطرناک حد تک بلند ہے۔ گڈو بیراج پر پانی کا بہاؤ چھ لاکھ پینتیس ہزار، سکھر پر پانچ لاکھ اڑتیس ہزار، اور کوٹری پر دو لاکھ اٹھہتر ہزار کیوسک تک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ ان مقامات سے نیچے واقع علاقوں میں مزید پانی پھیلنے کا خدشہ ہے۔

ریسکیو اور امدادی سرگرمیاں وزیراعظم کی ہدایت پر جاری ہیں، اور نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر چوبیس گھنٹے کام کر رہا ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ خطرے کے پیش نظر متاثرہ علاقوں سے فوری نکل جائیں مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں تاکہ جانی و مال نقصان نہ ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں