عائشہ عمر کا نیا شو لازوال عشق تنقید کی زد میں، بائیکاٹ کا اعلان

لازوال عشق

رخ پاکستان: پاکستانی اداکارہ اور میزبان عائشہ عمر جلد ہی ایک نئے اردو ریئلٹی شو ‘لازوال عشق’ میں میزبانی کے فرائض سر انجام دیتی نظر آئیں گی۔ یہ شو اپنی نوعیت کا پہلا اردو ڈیٹنگ ریئلٹی شو قرار دیا جا رہا ہے، جس کی پہلی جھلک خود عائشہ عمر نے انسٹاگرام پر مداحوں کے ساتھ شیئر کی۔

مختصر ویڈیو کلپ میں عائشہ عمر کو ایک یاٹ پر سفید لباس میں جدید اور پُرکشش انداز میں دکھایا گیا ہے۔ شو کی عکس بندی ترکیہ کے خوبصورت اور سیاحتی مقامات پر کی گئی ہے، جہاں کے مناظر، رہائش گاہیں اور ماحول ایک لگژری لائف اسٹائل کی عکاسی کرتے ہیں۔ مرکزی لوکیشن ایک پرتعیش ولا ہے جس میں سوئمنگ پول، کشادہ لان، اور تمام جدید سہولیات موجود ہیں۔

شو کے فارمیٹ کے مطابق آٹھ شرکاء چار مرد اور چار خواتین اس ولا میں اکٹھے رہیں گے اور محبت کی تلاش میں مختلف مراحل سے گزریں گے۔ ان کی روزمرہ زندگی، بات چیت، اور سرگرمیاں کیمروں کے ذریعے مسلسل ریکارڈ کی جائیں گی۔ اطلاعات کے مطابق شو کی ممکنہ طور پر 100 اقساط ہوں گی، اور ہر مرحلے میں چیلنجز اور ٹاسکس کے ذریعے ایک فاتح جوڑے کا انتخاب کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: جون 2025 کے بعد ٹرمپ کا مودی سے ٹیلیفونک رابطہ، سالگرہ کی مبارکباد

تاہم جیسے ہی اس شو کا ٹیزر سامنے آیا، سوشل میڈیا پر تنقید کا طوفان آ گیا۔ بہت سے صارفین نے سوال اٹھایا کہ کیا اس طرز کا مواد ہماری ثقافت، مذہب، اور خاندانی اقدار کے مطابق ہے؟ کئی لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس قسم کے شوز نوجوان نسل کو غلط سمت میں دھکیل سکتے ہیں۔

ایک صارف نے تنقید کرتے ہوئے لکھا، “ہماری روایات اور مذہبی اصول ایسے پروگرامز کی اجازت نہیں دیتے، یہ تو مغربی طرزِ زندگی کو فروغ دینا ہے۔” ایک اور تبصرے میں کہا گیا، “ایسا مواد ہم فیملی کے ساتھ بیٹھ کر کیسے دیکھ سکتے ہیں؟”

کچھ صارفین نے یہاں تک مطالبہ کیا کہ شو کو نشر ہونے سے پہلے ہی بند کر دینا چاہیے۔ میزبان عائشہ عمر اور دیگر خواتین شرکاء پر بھی تنقید کی جا رہی ہے کہ وہ مغربی فیشن کے ذریعے پاکستانی اقدار کو نظر انداز کر رہی ہیں۔

سوشل میڈیا پر بحث اس سوال کے گرد گھوم رہی ہے کہ کیا ریٹنگز، شہرت، اور تفریح کی خاطر ہماری حدود ختم ہو چکی ہیں؟ اور کیا ایسے شوز واقعی پاکستانی معاشرے کے لیے موزوں ہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں